اگر پاکستان پر 95 ارب ڈالر کا قرض اکٹھا ھو گیا ھے تو نیب چیئرمینوں نے 20 سال اس قرض کو کیوں اکٹھا ھونے دیا؟؟؟

اگر پاکستان پر 95 ارب ڈالر کا قرض اکٹھا ھو گیا ھے تو نیب چیئرمینوں نے 20 سال اس قرض کواکٹھا کیوں ھونے دیا؟؟؟

ملکوں پر بین لاقوامی قرض ھونا اس جدید دور میں نہ کوئ انہونی بات ھے اور نہ ہی حیرت انگیز۔ بھارت پر بھی 300 بلین سے زیادہ قرض ھے۔ امریکہ جیسے طاقتور اور بڑی اکونومی رکھنے والے ملک پر بھی اس وقت 20 ٹریلین ڈالرز سے زیادہ قرض ھے۔

میں سمجھتا ھوں پاکستان اپنے ھم عصروں اور آس پاس کے ممالک میں سب سے کم قرض رکھنے والا ملک ھے۔

عمران خان اور احتساب کے ادارے نیب سمیت اپنے فائیدے کے لئے قرض کا پہاڑا صبح شام پڑھتے ھیں اور قوم کو ڈی مورالائیز کرتے ھیں خاص کر آصف زرداری اور نواز شریف کو ڈرانے کیلئے۔ھمارے ملک کی 95 فیصد عوام جاھل/پڑھے لکھے جاھل اور کند ذہن ھیں۔

جہاں نیب چئیرمین 95 بلین ڈالرز کا احتساب کرنا چاھتے ھیں وھیں وہ یہ بات زیادہ تندہی سے ایکسپلورر کریں کہ

ھمارے ملک میں 71 سالوں میں پیداوار کیوں نہیں بڑھی؟؟؟

بائیس کروڑ کی آبادی جہاں 60 فیصد لوگ زراعت سے وابستہ ھے برآمدات 24 بلین ڈالر کھرچن کے برابر کیوں ھے؟ اس کا بھی احتساب ھونا چاھئیے۔

WHAT A TERRIBLE JOKE???

اکھتر سال گزرے کے بعد بھی ھم کوئ ایک چیز مینوفیکچر کیوں نہیں کر رھے،؟؟؟ سوئے تک ھم امپورٹ کرتے ھیں۔

آج نیب چئیرمین مغل دور کے بادشاہوں کی بات کرتے ھیں وہ دوسروں کو تو چھوڑیں اپنے سے پہلے نیب چئیرمین کی پروگریس بتائیں انہوں نے اور مزید پیچھے والوں نے کیا کیا؟؟؟

اگر آج ملک میں مغل بادشاہ بن گئے ھیں تو یہ بھی انکوائیریز ھونی چاھئیے جمھوری دور میں بادشاہ کیسے وجود میں آئے؟؟؟

آج فالودہ والے اور سینکڑوں لوگوں کے کھاتوں سے اربوں روپئیے نکل رھے ھیں۔۔پچھلے 30 سالوں میں ادارے کہاں سو رھے تھے؟؟؟

6 مہینوں سے ادارے ڈھول پیٹ رھے ھیں۔ نہ کوئ بندہ پکڑا گیا اور نہ ایک روپیہ وصول ھوا۔

Governments change but folly remains the same.

اگر آصف زرداری ، نواز شریف اور الطاف حسین ھنڈا ففٹی چلاتے تھے، لوھار تھے اور سینما کے ٹکٹ بیچتے تھےتو آج لندن میں الطاف حسین کے 35 بینک اکاوءنٹ کہاں سے آئے۔

آصف زرداری کے نام سے منصوب 14 شوگر ملیں، لاکھوں ایکڑز زمیں، سوئٹزرلینڈ میں چھ سو ملین ڈالرز اور پاکستان کے ھر شہر میں بلاول اور زرداری ھاوءسز کہاں سے آئے؟؟؟

نواز شریف اگر لوھار کا بیٹا تھا تو آج ھزاروں ایکڑز کے جاتی امراء میں کیسے رھتا ھےاور دنیا میں پھیلی جائیدادیں کہاں سے آئیں؟؟؟

حکومت اور ملکی ادارے خود پنگے لیتی ھیں۔۔طالبان بنا دی،نائن الیون کی جنگ میں کود گئے،ایم کیو ایم بنوا دی، باری باری مارشل لاء لگا کر مجمع اکٹھا کر کے سول حکومتیں بناتے اور توڑتے رھے۔۔

کلرکوں افسروں، بینکروں کو پکڑ پکڑ کر ایک کروڑ کے دس چار کے چالیس بنا تےھیں ڈھونگ رچا رکھا ھے تا کہ وجود قائم رھے اور کام چلتا رھے۔

جسطرح قانون میں چور اور چور کو سپورٹ کرنے والے کے لئے سزا ھے اسی طرح 71 سالوں سے مجرموں اور مجرمانہ غفلت کرنے والوں، پالنے اور نظر انداز کرنے کی بھی سزا اداروں کو ملنی چاھیئے۔

بادشاہ بنے نہیں “بنائے” گئے ھیں اور ملک کو کھوکھلا کرے کی زمہ داری اداروں کی ھے۔

اداروں کے سربراہ آتے جاتے رھینگے، لیکچردینگے، اخلاقیات سکھائینگے اور آخر میں کبھی این آر او، کبھی سوری سوری، کبھی جاوء معاف کیا، کبھی سعودی عرب، کبھی امارات اور کبھی امریکہ بیچ میں پڑیگا۔۔۔سب معاف۔

آپ بھی ادھر ھیں اور میں بھی دیکھتے ھیں نئے پاکستان میں کتنی دودھ کی نہریں بھتی ھیں اور اداروں کے سربراہ بیساکھیوں سے کیسے باھر آتے ھیں۔

شفیق احمد خان

Author: HYMS GROUP INTERNATIONAL

ex Chairman Edu Board, Reg Dir Sindh Ombudsman, Bank Exec; B.A(Hons) M.A English, M.A Int Rel, LL.B, 3 acreds from Canada

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: