سندھ میں 40 سالوں سے پیپلز پارٹی کو سندھی ووٹ کیوں دیتے ھیں؟؟؟

سندھ میں 40 سالوں سے پیپلز پارٹی کو سندھی ووٹ کیوں دیتے ھیں؟؟؟

صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کو ووٹ پڑنے کی کئ سالڈ وجوھات ھیں۔۔اس لئے نہیں کہ سندھ ووٹرز پیپلز پارٹی یا بھٹو فیملی سے خوش ھے بالکہ پیپلز پارٹی کے وڈیروں نے سندھ کے ووٹرز یا آبادی کو دو حصوں میں بانٹ دیا ھے۔

رشوت

اور

غربت بھوک

سندھ دیہی کا ووٹر ایک کلرک، تپیدار سے لے کر ڈپٹی کمشنر سے ھوتا ھوا 20 گریڈ کا سکرٹری اور 21 گریڈ تک کے بیوروکریٹ تک سر سے پیر تک دونوں ھاتھوں سے لوٹ رھے ھیں۔

پولیس، ریوینیو، کورٹس، ھیلتھ تعلیم، ایکسائز،بلدیہ،ٹرانسپورٹ،واپڈا،گیس،ایریگیشن،روڈز،بلڈنگز،نیب،آیف آئ سے، اینٹی کرپشن، لائیسنس،ھائ وے، غرض یہ کہ “الف” سے شروع ھو کر “ی” تک تمام منسٹریز،ان سے ملحقہ ادارے ھر طرف پٹیوالے سے لے کر آیس ایس پی اور کمشنر تک وڈیرے کا رشتہ دار، سفارشی یا رشوت دے کر لگا ھوا ھے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ رشوت دینے والا بھی سندھی زبان بولنے والا ھونا چاھئیے۔ صاحب بہادر غیر سندھی کو رشوت پر بھی نہیں نہیں رکھینگے۔

اوراگر کہیں کوئ خانصاحب یا چوہدری کا بندہ نظر آئے تو وہ پیپلا ھونا ضروری ھے۔

لیکن غیر سندھی ایک من کے آٹے کی بوری میں چٹکی بھر نمک کے برابر ھو گا۔۔یا پھر کوئ ضمیر فروش اور جوتے چاٹنے والا ھو گا۔

اب آجائیے ھاری ناری مزدور:

اسکو اور اس کے خاندان کو پیپلز پاری نے بے نظیر کارڈ کی بھیک، بینکوں کے بغیر سودی قرضے، سبسیڈائیزڈ کھاد، دوائیوں پر لگایا ھوا ھے۔جس گھر میں 4 سے 6 لوگوں کو بے نظیر انکم سپورٹ کے پیسے 30/40 ھزار ھر ماہ یا 3 ماہ بعد مل رھے ھیں، قرض کھاد مل رھا ھے اسے کیا ضرورت ھے محنت کرنے کی۔

میں دعوی سے کہتا ھوں 100 میں 98 فیصد بے نظیر انکم سپورٹ کے پیسے سندھ میں صرف سندھی اسپیکنگ کو مل رھے ھیں۔ 100 فیصد عام آدمی یہ سمجھتا ھے یہ پیسے پیپلز پارٹی، بھٹو فیملی، زرداری صاحب کے جیب سے انہیں ملتے ھیں۔۔حالانکہ یہ ساری غیر ملکی اداروں کی امداد، پاورٹی ریڈکشن کے لئے باہر سے آتے ھے۔

اب بھلا آپ بتائیے سندھی ووٹر پیپلز پارٹی کو ووٹ پہ ووٹ کیوں نہ دے؟؟؟ یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رھیگا۔

آپ نے نوٹ کیا ھوگا 30/40 سال قبل سندھ کی قوم پرست پارٹیاں جس بات کا نعرہ لگاتے تھے اور جس سندھ کی آزادی کی بات کرتے تھے وہ سارے قوم پرست لیڈران صرف اب ٹی وی اور اخباری خبروں میں کبھی کبھار نظر آتے ھیں کیونکہ انکا کام کوٹہ سسٹم کی آڑ میں، وڈیرہ شاہی اور جئے بھٹو کی آڑ میں پیپلز پارٹی کر رھی ھے۔

تو نیرو چین کی نیند کیوں نہ سوئے؟؟؟

اب آجائیے غریب اور بھوکے سندھی ووٹر کی طرف:

اس کا کوئ پرسان حال نہیں۔ وہ کسی وڈیرے کی کسی بھی لسٹ میں نہیں۔وہ اپنی غربت، بھوک، افلاس، بیماری میں سسکتا بھٹکتا جی رھا ھے اور وقت سے پہلے ھی مر جاتا ھے۔

میں بسر بار کہتا ھوں اور ایک بار پھر کہہ رھا ھوں

پیپلز پارٹی اور پاکستان ساتھ نہیں چل سکتے۔حکومتی ادارے جتنی جلدی یہ بات سمجھ لیں اچھا ھے۔

بھٹو کو ایوب خان لائے تھے۔

بھٹو نے “اِدھر ھم اُدھر تم” کا نعرہ لگایا۔

پولینڈ کی قرارداد سکورٹی کونسل میں پھاڑی

دوسرے الیکش بری طرح رگ کئے۔

فوج کو چیلنج کیا۔

پاکستان کے 1973 کے آئین کو ختم کر کے نیا آئن بنایا جائے۔صدارتی نظام قائم کیا جائے۔

شفیق احمد خان

Author: HYMS GROUP INTERNATIONAL

ex Chairman Edu Board, Reg Dir Sindh Ombudsman, Bank Exec; B.A(Hons) M.A English, M.A Int Rel, LL.B, 3 acreds from Canada

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: