WHY کیوں

WHY کیوں

میں نے آج تک کسی صحافی، تجزیہ نگار، دانشور یا سول سوسائٹی کے کسی چیمپئین کو یہ سوال اٹھاتے نہیں دیکھا کہ جب کوئ سیاستدان اور اسکی پارٹی اقتدار میں ھوتی ھے تو ” اسٹیٹ کے ادارے” اور احتساب کے ادارے اور سو موٹو لینے والے جن میں کچھ جو جنرل الیکشنز میں ایکٹو ھو جاتے ھیں اور ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ھیں تو گزرے ھوئے 5 سالوں میں جب لوٹ مار ھو رھی ھوتی ھے، کرپشن کا بازار گرم ھوتا ھے تو اس وقت خاموشی کیوں اختیار رکھتے ھیں؟

جب اربوں کھربوں دس دس بیس بیس سال لوٹا ھوا اور چوری کا پیسہ پوری دنیا میں پھیل جاتا ھے تو سب کو احتساب کا خیال آتا ھے۔

اب بھلے آپ آصف زرداری، انور مجید، لوائ اور نواز شریف کو عمر قید میں رکھیں یا گولی مار دیں وہ پیسہ تو واپس نہیں آئیگا۔ غریب عوام کے ٹیکس، ترقیاتی فنڈز اور سالہا سال پر محیط کھربوں تو گئے۔

کیا عمر قید اور گولی مارنے سے ملک کی لوٹی ھوئ دولت، غریب کے آنسو جس کا بھائ باپ شوہر ھسپتال دوائ نہ ھونے کی وجہ سے مر گیا یا کالج یونیورسٹی نہ پڑھانے کیوجہ سے ایک جوان کی زندگی خراب ھوگئ وہ کون واپس لائیگا۔

اداروں کو صرف اس پر اکتفا نہیں کرنا چاھئیے کہ اگر لوگ ووٹ دے کر غلط لوگ چنتے ھیں تو ھم کیا کریں۔

پھر تو قانوں نافظ کرنے والے اداروں کو قاتل، رہپسٹ اور چھینا جھپٹی کرنے والوں کو بھی نہیں پکڑنا چاھئے کہ بندہ یا بندی نے خود احتیاط کیوں نہیں کی؟

خدا خا غضب آج نواز شریف اور زرداری ھزاروں کروڑں کے پیٹے میں ھیں جو 20/30 سال قبل ( ان میں سے ایک صاحب کو تو) علاقے میں کوئ 5000 روپئے ادھار نہیں دیتا تھا اور آج دنیا کے کونے کونے میں انکی جائیدادیں پھیلی ھوئ ھے۔ پھر یہ لوگ مرنے سے پہلے اپنے **** تیار کر جاتے ھیں۔ ان کے پاس اتنی دولت ھوتی ھے کہ وہ سلسلہ جاری رکھتے ھیں۔ جیسے، سندھ، پنجاب اور کے پی کے وڈیرے، چوہدری، جگیردار اور خانصاحب۔

ادارے جائیں اور انکے شہروں، گاوءں اور علاقے کے لوگوں سے پوچھیں کہ یہ لوگ 20/30 سال قبل کیا تھے۔ ھم نے ھماری بیوی نے تو بیوروکریٹک نوکریاں کیں ھم تو کروڑ پتی نہیں بنے اور یہ کھرب پتی بن گئے۔

آج تمام اداروں کا مشن لوٹا ھوا پیسا لانا ھے یا ان کو جیل میں رکھنا، عمر قید یا گولی مارنا ھے؟

ڈرامے بند ھونے چاھئیں اس ملک کو بنے 70 سال ھو گئے ادارے ان کے کارندے اللہ کو جوابدہ ھیں۔

ایک طرف تو ھمارے تمام ادارے دعوے کرتے ھیں کہ وہ دنیا میں نمبر ون ھیں لیکن 22 کروڑ عوام کی کل ایکسپورٹ تو 24 کھرب ڈالر ھے اور انکا یہ حال ھے کہ وہ ستر سالوں سے ملک کو کھوکھلا ھوتے اپنی آنکھوں سے دیکھ رھے ھیں۔

جتنا ھمارا کل سالانہ بجٹ ھے امریکہ میں ایک ایک آدمی،خاندان اتنی دولت رکھتا ھے۔ ھم اربوں کی بات کرتے ھیں اور ترقی یافتہ ممالک کھربوں کی بھی نہیں بالکہ ٹریلینز کی بات کرتے ھیں۔ کب تک ھم تھوکا ھوا چاٹتے رھینگے؟

شفیق احمد خان

Author: HYMS GROUP INTERNATIONAL

ex Chairman Edu Board, Reg Dir Sindh Ombudsman, Bank Exec; B.A(Hons) M.A English, M.A Int Rel, LL.B, 3 acreds from Canada

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: