لمحہ فکریہ

لمحہ فکریہ:

1951 کی مردم شماری کے وقت مشرقی اور مغربی پاکستان کی کل آبادی 7 کروڑ 50 لاکھ تھی اور مغربی پاکستان کی صرف 3 کروڑ 37 لاکھ۔

آج پاکستان کی آبادی 22 کروڑ ھے۔

صوبوں کی بحث کرنے والے خود سوچیں اور فیصلہ کریں کیا ھونا چاھئیے کیا نہیں۔

یہ ایسا ھی ھے اگر ایک والدین کے 6 بچے ھیں اور جوان ھونے اور شادیوں کے بعد ضروری نہیں کہ وہ اسی چار دیواری میں والدین کے ساتھ رھیں اور الگ ھو جاتے ھیں۔

میں آپ کو ایک گر کی بات بتاوءں اور میں نے اپنی زندگی میں بھی اپنائی ھے۔آپ اپنے کاروبار، ورک پلیس اور گھر میں لوگوں کو سکھا کر اور لائق بنا کر independent کریں بجائے dependent کرنےکے۔ جب ھر آدمی اپنا کام خود کریگا، ھر آدمی کما کر لائیگا نوکری اور کاروبار کے ذریعے تو گھر کا سربراہ کوہلو کا بیل بن کر 24 گھنٹے نہیں چلیگا۔

ھمیشہ لوگوں کو آگے جانے کا راستہ دیں۔
یہی اصول روڈ پر ڈرائیونگ میں بھی ھے۔

جب لوگ آپ سے آگے جائینگے تو آپ خود بخود اور آگے جائینگے۔ھاں ایک شرط ھے
آپ کا اللہ پر ایمان مضبوط ھونا چاھئیے اور نیت صاف۔

مجھے کبھی اس بات پر فخر نہیں ھوا کہ میرے پاس یونیورسٹی کی 4 ڈگریاں ھیں اور میں 25 سال سے دنیا کے خوبصورت ترین ملک کینیڈا کا شہری ھوں لیکن مجھے ایک بات کی خوشی ضرور ھے کہ اللہ نے اس بہانے مجھے موقع فراہم کیا کہ میں دوسری دنیا کے لوگوں، معاشرہ اور سسٹم کو دیکھوں کہ ھم پاکستانی کتنے ‘ کمینے’ ھیں اور وہ لوگ کتنے اعلی ظرف یہی وجہ انکی ترقی کی ھے۔

سوچو

آج تک کسی پاکستانی نے واٹس ایپ، انٹر نیٹ، کمپوٹر، ای میل، کاپئیر، فیکس مشین، فیسبک، ٹوئٹر، ھوائ جہاز، ٹرین، کار، ٹی وی، سینیما، وڈیو ایجاد کیوں نہیں کی؟
ھر وہ چیز جسے ھم بڑے مزے سے اے سی کے کمرے میں بیٹھ کر استعمال کرتے ھیں گوروں کی بناء ھوئ ھے۔

پاکستانیوں کی سوچ صرف کار، بنگلہ، روپئہ، مال دولت پلاٹ سے آگے نہیں۔

مزے کی بات یہ ھے کہ ھم ساری زندگی اکٹھا کرتے ھیں اور آخر میں خالی ھاتھ قبر میں۔۔سوچو یہ ڈھیر کس کام کا۔

اللہ کی بڑائ، اسکی تربیت، ثواب کو چھوٹی چھوٹی باتوں میں تلاش کریں
۔۔۔راستے سے کانٹا اور پتھر ھٹانے پر اللہ ثواب کیوں دیتا ھے؟
کبھی سوچا اللہ کانٹے پتھر تو چھوڑیں پہاڑ کے پہاڑ غائب کر سکتا ھے!
۔۔۔کلمہ، درود شریف، اللہ کہنے پر ثواب کیوں ھے۔
کیا اللہ کے پاس فرشروں کی کمی ھے اس کی عبادت کے لئے۔

اصل میں ھم بھٹکے ھوئے لوگ ھیں۔خدا کی قسم اگر آپ کی نیت صاف ھے اور اندر سے آپ سچے ھیں آپکو ٹکریں مارنے کی ضرورت نہیں آپ سوچیں گے اور آپ کے کام ھونگے۔۔

یاد رکھیں آپ اللہ کو، مجھے یا دنیا کو دھوکا نہیں دے رھے بالکہ اپنے آپ کو۔

بس آج سے صرف اللہ کی بڑائی کو جان لیں۔۔

شفیق احمد خان
۔۔۔

Author: HYMS GROUP INTERNATIONAL

ex Chairman Edu Board, Reg Dir Sindh Ombudsman, Bank Exec; B.A(Hons) M.A English, M.A Int Rel, LL.B, 3 acreds from Canada

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: