سندھ شوگر انڈسٹری میں بے قائدگیاں( میں ایک عینی شاھد)

سندھ شوگر انڈسٹری میں بے قائدگیاں
( میں ایک عینی شاھد)

شوگر انکوائیری رپورٹ میں بھت سے شوگرمل مالکان، سیاستدانوں اورحکومتی مشینری کے لئے جو باتیں کہی گئ ھیں وہ بیشک پاکستان کے وزیرآعظم عمران خان نے کمیشن بنوا کر ظاہر کیں لیکن ان میں بیشتر 50 سالوں سے بھی پہلے سے ھو رھی ھیں جب چاروں صوبوں میں بھت کم شوگر ملیں ھوا کرتی تھیں۔

گنا اگانےکےکاشتکاروں کے ساتھ زیادتیاں، بے ایمانیاں اور زیادتیوں میں تیزی اس وقت آئ جب میاں صاحبان نے شوگر ملیں لگانا شروع کیں۔

پھر ساری حدیں اس وقت ختم ھوگئیں جب 20 سال قبل اس انڈسٹری میں سندھ کے سیاستدان اور پاکستان کے سابق صدر آصف زرداری داخل ھوئے اور دیکھتے ھیں دیکھتے 15/20 سالوں میں زرداری صاحب نے سندھ میں 14 شوگر ملیں لگا اور ھتھیا لیں جو زیادہ تر بے نامی اکاوءنٹس پر کھولیں گئیں۔اس میں اومنی گروپ اور پیپلز پارٹی کے وڈیرے شامل تھے۔

گنا کاشتکاروں کے ساتھ مل مالکوں کی زیادتیوں اور لوٹ مار کی انوکھی داستانیں صوبہ سندھ میں زیادہ ھیں جو لٹرلی پچھلے 15/20 سالوں سے پیپلز پارٹی کے وڈیروں اور زرداری صاحب کے چاروں طرف پھیلائے ھوئے بدمعاش اور غنڈے گنا کاشتکاروں کے ساتھ کرتے تھے۔

میں نے رپورٹ پڑھی نہیں لیکن مندرجہ ذیل بے قائیدگیوں کا میں عینی شائد ھوں:

1۔گنے کے وزن میں کٹوتی۔۔گنا سوکھا ھے، اس گنا کے ساتھ جڑیں لگی ھیں،گنا کیچڑ سے بھرا ھے، کوئ اپنی مرضی کا چارج لگا کر وزن کم کرنا شامل ھے۔

2۔بینکوں سے ادائیگیوں میں بے ایمانی۔

3۔کاشتکاروں کا گنا زبردستی زرداری اوونڈ ملوں کو بھیجنا۔

4۔سیزن کے دوران راستوں کو بلاک کرنا تا کہ گنا زرداری کے علاوہ دوسری شوگر ملوں کو نہ جائے۔

5۔کاشتکاروں کی ادائیگیاں لمبے عرصہ روکنا یا بعد میں سرے سے مکرجانا۔

6۔شوگر ھورڈنگ۔

7۔شوگرکی بلیک مارکیٹنگ

8۔سرکاری ریٹ کی بجائے اپنی مرضی کے گنے کے ریٹس کاشتکار کو دینا۔

یہ تمام باتیں مجھے اس لئے معلوم ھیں کیونکہ میرا تعلق اندرون سندھ دیہی علاقوں سے ھے اور میں وہیں پیدا ھوا، پلا، بڑھا، تعلیم حاصل کی اور پھر ایک بھٹ بڑے کمرشل بینک میں ڈاریکٹ مینیجیریل گریڈ میں بھرتی ھوا اور ایک سال کے اندر میں بینک کا برانچ مینیجر تھا۔
بعد میں میں اسٹنٹ وائیس پریزیڈنٹ/زونل اور ایریا مینیجر بھی رھا۔

اتفاق سے 35 سال قبل میں بینک کی ایسی برانچ کا 3 سال مینیجر رھا جو ایک شوگر مل کی پراجیکٹ برانچ تھی۔ ان تین سالوں میں مل مینیجمینٹ، اکاوءنٹس اور کین ڈپارٹمینٹس میں کیا ھوتا ھے۔۔میرے مشاہدے میں تھا۔

دراصل شوگر اور گنا مالکان کے ساتھ ھیں قائیدگیاں اور بدمعاشی نہیں ھوتی بالکہ تمام بڑی فصلوں۔۔کپاس، گندم، چاول اور تمام سبزیاں اور فروٹ گرورز کو بھی ھر طرف سے رگڑا لگتا ھے۔

Author: HYMS GROUP INTERNATIONAL

ex Chairman Edu Board, Reg Dir Sindh Ombudsman, Bank Exec; B.A(Hons) M.A English, M.A Int Rel, LL.B, 3 acreds from Canada

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: