ایک افغان محاجر لڑکی 20-25 سال بعد کسطرح ایک دن اسی افغانستان کے صدر کا بی بی سی انگریزی سروس کیلئےانٹرویو کر رھی تھی

ایک افغان محاجر لڑکی 20-25 سال بعد کسطرح ایک دن اسی افغانستان کے صدر کا بی بی سی انگریزی کی طرف سے انٹرویو کر رھی تھی۔

اس وڈیو کو دیکھنے سے پہلے آپ میرا یہ نوٹ ضرور پڑھیں۔

جسطرح لوگ سکھوں کو سردارجی کہہ کر انکا مزاق اڑاتے ھیں اور بے وقوف سمجھتے ھیں اسی طرح افغانیوں کی بھی پہچان پاکستانیوں کی نظر میں پناہ گزین، دھشت گرد، ان کے بچے ھفتہ بازار میں سامان اٹھانے والے اور کراچی کی سڑکوں پر بھیک مانگنے والے سمجھے جاتے ھیں۔
لیکن حقیقت اس سب کے برعکس ھے۔

سکھ برادری اول درجہ کے ذھین، آعلی تعلیم یافتہ اور skilled قوم ھے۔کینیڈا، امریکہ، انگلینڈ، جرمنی، آسٹریلیا اور اسکینڈینیوئین ممالک میں بڑی تعداد میں سکھ قوم بڑی تعداد میں established ھیں۔
میں نے کینیڈا میں کئ سائینٹسٹ جونیو کلئیر میں کام کرتے ھیں، کیمسٹس، ڈاکٹرز اور پی ایچ ڈیز دیکھے ھیں۔
کینیڈا میں 2001 میں جس سرجن نے میری اینجوپلاسٹی کی تھی وہ بھی اکی سکھ سرجن تھے آج 21 سال ھوگئے میں فٹ ھوں۔

اسی طرح افغانی بھی بڑی تعداد میں سکھوں کیطرح دنیا کے بڑے ممالک میں پھیلے ھوئے ھیں اور وہ پاکستانیوں سے زیادہ لائق، پڑھے لکھے، اور ذھین ھیں۔یہاں تک کے کابل یونیورسٹی کی ڈگری کراچی اور پنجاب یورنیورسٹیوں سے زیادہ اہم مانی جاتی ھے۔

یہ تصویر اور وڈیو 38 سالہ ایک افغانی خاتون یالڈا حکیم کی ھے۔ جن کے و الد 1986 کی افغان روس جنگ میں محاجر بن کر پاکستان آگئے تھے۔ یالڈا اس وقت 3 سال کی تھیں۔ کچھ عرصہ بعد یالڈا کے والد آسٹریلیا چلے گئے اور ڈہریت اجتیار کرلی ۔وقت کے ساتھ یالدا نے جرنل ازم میں آسٹریلیا سے ڈگریاں لیں۔
پچھلے دس بارہ سالوں سے یالدا بی بی سی انگش نیوز، پرزینٹر اور جرنسلسٹ کا کام کر رھی ھیں۔

انہوں نے کئ بار ورلڈ اکنومنک فارم جہاں بینظئر بھٹو، بلاول،جنرل مشرف اور عمران خان بھی تقاریر کرنے گئے یالدا نے ھوسٹنگ کی۔

انسان کی محنت، تعلیم، تربیت اسے کہاں سے کیاں لے جاتی ھے۔ یہ وڈیو 7 سال پرانی ھے لیکن بتانا یہ تھا کہ یالدا جو اپنے والد کے ساتھ مہاجر بن کر پاکستان اور پھر آسٹریلیا گئ وہ اسی افغانستان کے اس وقت کے صدر حامد کرزئی کا بی بی سی انگلش کیطرف سے انٹرویو کر رھی ھیں۔
یالدا امریکہ میں افغان یونیورسٹی، یالدا فاونڈیشن اور کئ ادارے قائم کئے ھیں یا ان میں کونٹریبیوٹ کرتی ھیں۔

یالدا شادی شدہ ھیں اور انکا ایک بیٹا ھے۔

شفیق خان، کینیڈا

اگست 11، 2021

Author: HYMS GROUP INTERNATIONAL

ex Chairman Edu Board, Reg Dir Sindh Ombudsman, Bank Exec; B.A(Hons) M.A English, M.A Int Rel, LL.B, 3 acreds from Canada

2 thoughts on “ایک افغان محاجر لڑکی 20-25 سال بعد کسطرح ایک دن اسی افغانستان کے صدر کا بی بی سی انگریزی سروس کیلئےانٹرویو کر رھی تھی”

  1. V good, and get v good progress being a lady and she belongs to v poor country and that is v sub standard country, and continued under the war position.

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: