قومی اسمبلی میں قومی احتساب بیورو (نیب) آرڈیننس 1999 میں ترمیم کا بل کثرت رائےسے منظور کرلیا گیا۔

قومی اسمبلی میں قومی احتساب بیورو (نیب) آرڈیننس 1999 میں ترمیم کا بل کثرت رائےسے منظور کرلیا گیا۔

1۔ بل کے مطابق چیئرمین نیب کی 3 سالہ مدت کے بعد اسی شخص کو دوبارہ چیئرمین نیب نہیں لگایا جائے گا۔

2۔ نئے چیئرمین کی تقرری کیلئے مشاورت چیئرمین کی مدت ختم ہونے سے 2 ماہ پہلے شروع کی جائے گی اور یہ عمل 40 روز میں مکمل کرنا ہوگا۔

3۔ بل کے مطابق وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں اتفاق رائے نہ ہونے پر تقرر کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو جائےگا۔ پارلیمانی کمیٹی چیئرمین نیب کا نام 30 روز میں فائنل کرے گی۔

4۔ نیب کے قانون سے وفاقی یا صوبائی ٹیکس معاملات نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دیے گئے ہیں، نیب گرفتار شدگان کو 24 گھنٹوں میں نیب کورٹ میں پیش کرنے کا پابند ہوگا۔

5۔ بل کے مطابق کیس دائر ہونے کے ساتھ ہی گرفتاری نہیں ہوسکے گی،نیب گرفتاری سے پہلے کافی ثبوت کی دستیابی یقینی بنائے گا۔

6۔ ترمیمی بل میں نیب کی جانب سے ریمانڈ کی مدت کو 90 دن سے کم کرکے 14دن کر دیا گیا ہے۔

7۔ بل کے تحت مالی فائدہ نہ اٹھانےکی صورت میں وفاقی یاصوبائی کابینہ کے فیصلے نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آئیں گے، کسی بھی ترقیاتی منصوبے یا اسکیم میں بےقاعدگی نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آئے گی، کسی بھی ریگولیٹری ادارے کے فیصلوں پر نیب کارروائی نہیں کر سکے گا۔

8۔ ترمیمی بل کے مطابق احتساب عدالتوں میں ججز کی تعیناتی 3 سال کیلئے ہوگی، احتساب عدالت کے جج کو ہٹانے کیلئے متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت ضروری ہوگی۔

Author: HYMS GROUP INTERNATIONAL

ex Chairman Edu Board, Reg Dir Sindh Ombudsman, Bank Exec; B.A(Hons) M.A English, M.A Int Rel, LL.B, 3 acreds from Canada

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: