CFR Senior Fellow Daniel Markey tells the story of the tragic and often tormented relationship between the United States and Pakistan. Pakistan’s internal troubles have already threatened U.S. security and international peace, and Pakistan’s rapidly growing population, nuclear arsenal, and relationships with China and India will continue to force it onto the United States’ geostrategic map in new and important ways over the coming decades. No Exit from Pakistan explores the main trends in Pakistani society that will help determine its future; traces the wellsprings of Pakistani anti-American sentiment through the history of U.S.-Pakistan relations from 1947 to 2001; assesses how Washington made and implemented policies regarding Pakistan since the terrorist attacks on the United States on September 11, 2001; and analyzes how regional dynamics, especially the rise of China, will likely shape U.S.-Pakistan relations. By offering three options for future U.S. strategy–defensive insulation, military-first cooperation, and comprehensive cooperation–Markey explains how Washington can prepare for the worst, aim for the best, and avoid past mistakes.

امریکی مصنف ڈینیل مارکے اپنی کتاب ”نوایگزٹ فرام پاکستان“ میں لکھتا ہے کہ ہم امریکن پاکستان کو نہیں چھوڑ سکتے، اسکی وہ تین وجوہات بتاتا ہے۔
پہلی وجہ۔۔۔پاکستان کا نیوکلیئر و میزائل پروگرام اتنا بڑا اور ایکسٹینسو ہے کہ اس پر نظر رکھنے کیلئے ہمیں مسلسل پاکستان کے ساتھ انگیج رہنا پڑے گا۔
دوسری وجہ۔۔۔۔پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس کے چین کی سول ملٹری قیادت کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں چین پر نظر رکھنے کیلئے بھی پاکستان کے ساتھ انگیج رہنا ضروری ہے۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے پاس اتنی بڑی فوج ہے کہ نہ صرف ریجن کو بلکہ پوری دنیا کو ڈی سٹیبلائز کر سکتی ہے۔ پاک فوج پر نظر رکھنے کیلئے بھی پاکستان کے ساتھ انگیج رہنا ضروری ہے۔
⭕ وہ مزید لکھتا ہے کہ ہم نے 72سال پہلے فیصلہ کیا تھا کہ پاکستان کو ڈویلپ ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور پاکستان کو اسلامی دنیا کو بھی لیڈ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس کیلئے ہم نے کچھ طریقے اپنائے ہیں وہ یہ کہ پاکستان کو اتنا ڈی سٹیبلائز کرو کہ ہم مینیج کر سکیں اور ڈی سٹیبلائزڈ اس طرح کرتے ہیں کہ ہم پاکستانی لیڈروں کو خرید لیتے ہیں جن میں پولیٹیکل لیڈرز، سول بیوروکریسی کے افسران اور جرنلسٹ بھی شامل ہیں اور میڈیا ہاؤسز بھی …
⭕ ڈینیل مارکے اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ پاکستانی لیڈرز خود کو بہت تھوڑی قیمت پر بیچ دیتے ہیں، اتنی تھوڑی قیمت کہ انہیں امریکا جانے کا ویزہ مل جائے یا ان کے بچوں کو اسکالر شپ مل جائے اور اتنی چھوٹی چیز پر وہ پاکستان کے مفادات بیچنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔


ex Chairman Edu Board, Reg Dir Sindh Ombudsman, Bank Exec; B.A(Hons) M.A English, M.A Int Rel, LL.B, 3 acreds from Canada

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in: Logo

You are commenting using your account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: