مجھے اپنے پاکستانی ہونے پر شرمندگی ہے

جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے آخری روز عمران خان کی بے موہار گالم گلوچ فورس کی طوفان تمیزی میرا سر شرم سے جھک گیا کہ میں ایک پاکستانی ہوں:

جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے آخری روز پی ٹی آئ لیڈران، ان کے پیروکاروں اور میڈیا ٹرولنگ ٹیم کی طرف سے ان کے خلاف جس طوفان بدتمیزی کا مظاہرہ سوشل میڈیا پر کیا گیا وہ نہ صرف افسوس ناک بالکہ حیران کن ہے۔

اس شرمناک اور غیر اخلاقی رویہ کی کوئ حد نہیں اور نہ ہی مذمتی الفاظ ہیں میرے پاس۔

گو کہ ہمیں تو 27 سال ہوگئے پاکستان چھوڑے لیکن آج ٹوئٹر دیکھ کر غصہ سے زیادہ افسوس ہو رہا ہے کہ 21ویں صدی اور 75 سال بعد، قائد آعظم کے پاکستان اور آخری نبی محمد صل اللہ علیہ والی وسلم کی امت ایسی ہوگی کبھی سوچا نہ تھا۔

کسی انسان اور وہ بھی ملک کے سپہ سالار کے لئے اس قدر دشمنی، نفرت اور حقارت تو آج تک اس قوم نے کبھی بھارتیوں اور اسرائیلیوں کے لئے بھی نہیں دکھائ جو آج انہوں نے جنرل باجوہ کے لئے بلا وجہ دکھائ۔ اس طوفان بدتمیزی میں جہاں ایک طرف امین گنڈا پور اور مراد سعید جیسے لوگ شامل تھے وہیں عمران ریاض، صابر شاکر اور ان کی دیگر لفافی صحافی بھی نظر آئے۔ مطلب کوئ بات ڈھکی، چھپی، شرم و حیا اور پردہ میں نہ تھی بالکہ شلوار کاندھا پر ڈال کر سب ننگے گھوم رہے تھے۔

عمران خان یاد رکھیں انہوں نے اپنے لوگوں کے دل میں یہ مواد جنرل باجوہ کے لئے نہیں بالکہ ریاست پاکستان اور پاکستانی عوام کے لئے بھرا ہے۔ قوم کو دنیا کی نظروں میں گرایا ہے۔ یہ شخص بلا شبہ حکمرانی تو چھوڑیں اس ملک میں رہنے کے لائق نہیں۔ مجھے تو اسے پاکستانی کہتے بھی گھن آتی ہے۔

اگر پی ٹی آئ کے لوگ اور حمائیتی اتنے انصاف پسند اور اصول والے تھے تو اپریل 2022 سے پہلے وہ کہاں تھے کیونکہ ساڑھے تین سال بھی تو جنرل باجوہ کی ہی چھتری تلے عمران خان نے حکومت کی۔ اور وہ جنرل باجوہ کی تعریفوں کے پل باندھا کرتے تھے۔

اگر عمران خان “نیوٹرل جانور ہوتا ہے” نہ کہتے تو آج ان کے پیروکا اس طرح ننگے نہ ناچ رھے ہوتے۔

یہ بات پوری دنیا کو معلوم ہے کہ 2018 میں عمران خان، جنرل باجوہ کی وجہ سے ہی وزیرآعظم بنے تھے ورنہ چڑھائی تو انہوں نے 126 دن اسلام آباد پر 2014 میں بھی کی تھی پر امپائر کی انگلی نہ اٹھی اور وہ ناکام و نا مراد واپس چلے گئے اور وہ امپائر انہی کا ایک بھائ فوج کا سپہ سالار تھا۔

عمران خان نے 8 ماہ میں ایک ایک اخلاق، تمیز، اصول اور انسانی طرز زندگی اور ایک ترقی یافتہ معاشرہ کی دھجیاں اڑائ ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ یوتھی لفافی صحافیوں کو تو آپ چھوڑیں، کامران خان جیسے صحافی اور کبھی کبھی حامد میر جیسے لوگ بھی اپنی ریٹنگ اور کمائ کی خاطر عمران خان سے بات چیت اور صلح صفائ کا درس دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسا آدمی جو اپنی “میں” سے باہر ہی نہیں نکل رہا، کسی بات کو ماننے کو تیار نہیں، اپنے تمام مخالف حکمرانوں اور سیاستدانوں سے دشمنی کی حد تک نفرت کرتا یے اس کے دل میں کسطرح زبردستی بھائ چارہ، صلح صفائ ٹھونسی جا سکتی ہے؟

مجھے تو آنے والے دن بہت خوفناک دکھائ دے رہے ہیں۔ میں یہ بھی سوچ رہا ہوں عمران خان نے کتوں کی ایک ایسی فوج تیار کی ہے جس کے ٹریننگ بھی نہیں کی کہ کس پر اور کب بھونکنا ہے بس پٹہ کھول دیا ہے۔۔۔پھر ایسے کتے، کتے کی طرح ہی بے موت مارے جاتے ہیں۔

جنرل باجوہ

Author: HYMS GROUP INTERNATIONAL

ex Chairman Edu Board, Reg Dir Sindh Ombudsman, Bank Exec; B.A(Hons) M.A English, M.A Int Rel, LL.B, 3 acreds from Canada

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: