پاکستان کے ایٹمی بم بنانے کے پیچھے ذوالفقار علی بھٹو کا وہ مشہور زمانہ کھوکھلا اور جزباتی نعرہ تھا کہ، “ہم گھاس کھائیں گے پر ایٹم بنائیں گے”۔

پاکستان کے ایٹمی بم بنانے کے پیچھے ذوالفقار علی بھٹو کا وہ مشہور زمانہ کھوکھلا اور جزباتی نعرہ تھا کہ، “ہم گھاس کھائیں گے پر ایٹم بنائیں گے”۔

اس وقت دنیا میں 200 سے زیادہ ممالک ہیں جن میں صرف 9 ممالک کے پاس ایٹمی قوت ہے۔ اگر ایٹمی قوت اتنی ہی ضروری ہوتی تو دنیا کے آدھے سے زیادہ ملکوں کے پاس ایٹمی طاقت ہوتی۔

رہی بات پاکستان کے ایٹم بم بنانے کے پیچھے بھارت سے دشمی کی تو آدھا پاکستان تو بھارت 1971 میں ہی لے چکا تھا۔ اور پھر ایٹم بم ہونے کے باوجود کشمیر بھی 3 سال پہلے لے اڑا تو آپ نے کون سا بھارت کو روک لیا؟ ایٹم بم کا خوف کہاں گیا؟

بھارت اگلے چند سالوں میں زندگی کے ہر شعبہ میں چین کو پیچھے چھوڑ جائیگا اور امریکہ، روس، عرب دنیا مجبور ہوگی بھارت سے تعلقات رکھنے میں۔

یا تو پاکستان معاشی، سماجی، تعلیمی، تربیتی اور زندگی کے ہر شعبہ میں بھارت جیسا ہوتا۔۔ اتنا مضبوط ہوتا کہ اگر بم نے بم بھی بنا لیا تو کوئ بات نہیں تھی۔ پر پاکستان نے تو ایٹم بم کے علاوہ ایک دیوہیکل فوج بھی رکھی ہوئ یے۔اوپر سے ہماری فوج اور افسران وہ کتابی اور افسانوی تین وقت بھوکے رہ کر لڑنے والے نہیں جب تک کہ ان افسروں کے ساتھ درجنوں ملازم، درجنوں گاڑیاں اور لمبا پروٹوکول نہ ہو۔

ذوالفقار علی بھٹو کوئ سیاستدان نہیں تھے بس ایک تعلیم یافتہ، مغربی تہذیب میں پلنے والے ایک جاگیردار تھے۔

بھٹو اگر سیاستدان ہوتے تو کبھی پھانسی نہ چڑھتے۔ سیاستدان وہ ہوتا ہے جو “سیاست” کرے اپنی مرضی یا خود سری نہیں۔

بھٹو ایک مغرور، ضدی، خود سر، دوغلے، خود پسند اور مطلق العنان طبیعت رکھنے والے وڈیرے تھے۔ جبکہ آصف زرداری ایک بھوکے ننگے 12 پاس نوجوان تھے اور بینظیر سے شادی کے بعد ان کی لاٹری نکل آئ۔

اگر آپ کو بھارت کی نقل ہی کرنی تھی تو صرف ایٹم بم میں ہی کیوں، معیشت، قومیت، حب الوطنی، تعلیم اور ہیوی انڈسٹریز میں بھی کیوں نہیں؟

دراصل اب ایٹم بم پاکستان کے گلے پڑ گیا ہے۔ ہزاروں جوان اس کا پہرہ فیشن اور اس پر سالانہ اربوں روپئے کا خرچہ اسے سنبھالنے کا۔

پاکستان کی 75 سالا زندگی میں 52 سال تو بھٹو کی پیپلز پارٹی حکومت میں رہی اور آج بھی یے۔ پاکستان کو جتا نقصان بھٹو اور آصف زرداری اور ان کے وڈیروں نے پہنچایا ہے کسی پارٹی نے نہیں۔

بینکوں کے مفت کے قرضے، زراعت کے لئے کھاد اور دواوءں پر سبسیڈی، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر بھیک،
اسمبلی ممبرز، سینیٹر، وزیر، مشیر، کمشنر، ایس ایس پی اور تمام بیروکریٹک ملازمتیں لے کر یہ سب پیپلے دونوں ہاتھوں سے قومی خزانے کو لوٹ رہے ہیں۔

انشا اللہ پاکستان کے تابوت میں آخری کیل بھی یہ پیپلے ٹھونکیں گے۔

شفیق خان، کینیڈا
جنوری 25، 2023

Author: HYMS GROUP INTERNATIONAL

ex Chairman Edu Board, Reg Dir Sindh Ombudsman, Bank Exec; B.A(Hons) M.A English, M.A Int Rel, LL.B, 3 acreds from Canada

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: