A LETTER TO THE CHIEFS OF THE IMF AND THE EUROPEAN UNION

A LETTER TO THE CHIEFS OF IMF AND THE EUROPEAN UNION BY TWITTER:

The people of Pakistan often miserably ask one question that why every @IMFNews condition is tied to extend loan to the government has to strangle the poor people of Pakistan by hiking the prices of gas, petrolium, electricitiy which is basic needs of 65% of the poor people of Pakistan? Why not yo slash luxurious life of provincial and federal officials, right from a junior non gazetted officer to the Chief Secretary of the province?

Every government official has a luxurious office, house, chauffer driven car, servants, paid utilities, feul, repairs, and tons of other facilities. Top of that, every district officer, from a junior revenue officer to the commissioner and DIG, has a house and offices on 5-10-15+ acres.

MISUSE OF OFFICIAL FACILITIES AND RESOURCES: Larkana is 455 km from Karachi. One should calculate that the birth and death dates of Zulfiqar Ali Bhutto, Benazir Bhutto, Begum Nusrat Bhutto, Murtaza Bhutto and, Shahnawaz Bhutto (all are members of Peoples Party of Sindh rulers) fall 10 times a year and since their graves are in Garhi Khuda Bakhsh in one premises, Larkana, 455 km from Karachi, so, when the Chief Secretary of Sindh to the commissioner, deputy commissioner, police officers of every district of Sindh province travel in a protocol motorcade of least ten land cruisers, how much government petrol is burnt?

Remember, this is just one event of the year. While in Sindh province, there are events and visits 365 days in a year.
And don’t forget the chairman of the party Bilawal Zardari, vice chairman, his dad Asif Zardari, his 2 sisters, and family members travel separately in protocols of 30-50 vehicles each.

@vonderleyen @KGeorgieva
@TorontoStar

سوال تو بنتا ہے کہ 35 سالوں سے سیاست کرنے کے بعد بھی آج تک شریف خاندان کے کسی بندے نے ایک قطرہ خون کی قربانی نہیں دی جبکہ دوسری طرف پورا بھٹو خاندان کٹ گیا

عمران خان بھلے سراپا گند میں ڈوبا ہو لیکن 75 سالوں میں یہ کریڈٹ انہی کو جاتا ہے کہ اس نے اس ڈری، سہمی قوم کو زبان دی خاص کر نام نہاد دنیاوی خدا جنرلوں کے خلاف جن کا رعب صرف اپنی قوم پر ہی چلتا ہے باہر یا تو یہ بھاڑے کا کام کرتے ہیں یا ڈرتے ہیں

Gen Asim Munir Saheb, “Don’t let the fox guard the Henhouse.”

Gen Asim Munir Saheb,

“Don’t let the fox guard the Henhouse.”Gen Asim Munir Saheb,

پاکستان کا حال اس وقت واپڈا کے اس بجلی کے کھمبے کی مانند ہے جس کی تاروں کو سلجھایا نہیں جا سکتا ہاں البتہ سرے سے گرا کر منظم طریقہ سے نیا کھمبا لگایا جا سکتا ہے جس کے لئے پیسے چاہئیں جو کہ حکومت پاکستان کے
پاس ہیں نہیں۔

آپکو چاہئے ملک میں مارشل لاء لگا کر پہلا کام یہ کریں پاکستان اسٹیل ملز، ریلویز اور اسکی ہزاروں ایکڑز زمینیں، واپڈا اور اس کی زمینں، پی آئ اے، پاکستان پوسٹ اور اسکی غیر ضروری بلڈنگز، پاکستان کے تمام بین الاقوامی ائیرپورٹس، کروڑوں ایکڑذ پر پھیلے لاکھوں سرکاری افسران
(سول اور افواج پاکستان) کے دس دس بیس بیس ایکڑز پر بنے بنگلے اور آفیسز بیچ کر سرکاری خزانے میں ڈالے جائیں۔
یہ کام مارشل لاء کے بغیر کوئ نہیں کر سکتا۔
آصف زرداری، نواز شریف اور عمران خان وہی پرانے سانپ ہیں جو 50، 30 اور 4 سال سے باریاں لگاتے رہے ہیں۔

NOW OR NEVER: Trying these three families over and over in the name of socalled democracy which infact provide them a shelter for further loot and plunder. Repeating this folly will not lead Pakistan anywhere .

پاکستان کے ایٹمی بم بنانے کے پیچھے ذوالفقار علی بھٹو کا وہ مشہور زمانہ کھوکھلا اور جزباتی نعرہ تھا کہ، “ہم گھاس کھائیں گے پر ایٹم بنائیں گے”۔

پاکستان کے ایٹمی بم بنانے کے پیچھے ذوالفقار علی بھٹو کا وہ مشہور زمانہ کھوکھلا اور جزباتی نعرہ تھا کہ، “ہم گھاس کھائیں گے پر ایٹم بنائیں گے”۔

اس وقت دنیا میں 200 سے زیادہ ممالک ہیں جن میں صرف 9 ممالک کے پاس ایٹمی قوت ہے۔ اگر ایٹمی قوت اتنی ہی ضروری ہوتی تو دنیا کے آدھے سے زیادہ ملکوں کے پاس ایٹمی طاقت ہوتی۔

رہی بات پاکستان کے ایٹم بم بنانے کے پیچھے بھارت سے دشمی کی تو آدھا پاکستان تو بھارت 1971 میں ہی لے چکا تھا۔ اور پھر ایٹم بم ہونے کے باوجود کشمیر بھی 3 سال پہلے لے اڑا تو آپ نے کون سا بھارت کو روک لیا؟ ایٹم بم کا خوف کہاں گیا؟

بھارت اگلے چند سالوں میں زندگی کے ہر شعبہ میں چین کو پیچھے چھوڑ جائیگا اور امریکہ، روس، عرب دنیا مجبور ہوگی بھارت سے تعلقات رکھنے میں۔

یا تو پاکستان معاشی، سماجی، تعلیمی، تربیتی اور زندگی کے ہر شعبہ میں بھارت جیسا ہوتا۔۔ اتنا مضبوط ہوتا کہ اگر بم نے بم بھی بنا لیا تو کوئ بات نہیں تھی۔ پر پاکستان نے تو ایٹم بم کے علاوہ ایک دیوہیکل فوج بھی رکھی ہوئ یے۔اوپر سے ہماری فوج اور افسران وہ کتابی اور افسانوی تین وقت بھوکے رہ کر لڑنے والے نہیں جب تک کہ ان افسروں کے ساتھ درجنوں ملازم، درجنوں گاڑیاں اور لمبا پروٹوکول نہ ہو۔

ذوالفقار علی بھٹو کوئ سیاستدان نہیں تھے بس ایک تعلیم یافتہ، مغربی تہذیب میں پلنے والے ایک جاگیردار تھے۔

بھٹو اگر سیاستدان ہوتے تو کبھی پھانسی نہ چڑھتے۔ سیاستدان وہ ہوتا ہے جو “سیاست” کرے اپنی مرضی یا خود سری نہیں۔

بھٹو ایک مغرور، ضدی، خود سر، دوغلے، خود پسند اور مطلق العنان طبیعت رکھنے والے وڈیرے تھے۔ جبکہ آصف زرداری ایک بھوکے ننگے 12 پاس نوجوان تھے اور بینظیر سے شادی کے بعد ان کی لاٹری نکل آئ۔

اگر آپ کو بھارت کی نقل ہی کرنی تھی تو صرف ایٹم بم میں ہی کیوں، معیشت، قومیت، حب الوطنی، تعلیم اور ہیوی انڈسٹریز میں بھی کیوں نہیں؟

دراصل اب ایٹم بم پاکستان کے گلے پڑ گیا ہے۔ ہزاروں جوان اس کا پہرہ فیشن اور اس پر سالانہ اربوں روپئے کا خرچہ اسے سنبھالنے کا۔

پاکستان کی 75 سالا زندگی میں 52 سال تو بھٹو کی پیپلز پارٹی حکومت میں رہی اور آج بھی یے۔ پاکستان کو جتا نقصان بھٹو اور آصف زرداری اور ان کے وڈیروں نے پہنچایا ہے کسی پارٹی نے نہیں۔

بینکوں کے مفت کے قرضے، زراعت کے لئے کھاد اور دواوءں پر سبسیڈی، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر بھیک،
اسمبلی ممبرز، سینیٹر، وزیر، مشیر، کمشنر، ایس ایس پی اور تمام بیروکریٹک ملازمتیں لے کر یہ سب پیپلے دونوں ہاتھوں سے قومی خزانے کو لوٹ رہے ہیں۔

انشا اللہ پاکستان کے تابوت میں آخری کیل بھی یہ پیپلے ٹھونکیں گے۔

شفیق خان، کینیڈا
جنوری 25، 2023

BITCHES OF THE RICHES OF PAKISTAN

The Chief Justice of the Supreme Court of Pakistan is going to his office.

There are a total of 23 vehicles in the Chief Justice’s protocol, including 10 police mobiles, 10 green plate official vehicles, 1 ambulance, 1 motorbike, and 1 Chief Justice’s own BMW. On the other hand, you can see the Chief Justice of the U.K going to his office on a bicycle.

Imran Khan Has Been Archived

یہ بات عمران خان کو کیوں سمجھ نہیں آتی کہ وہ قیامت تک دوبارہ وزیرآعظم نہیں بن سکتے کیونکہ وہ اسٹبلشمنٹ کو سوٹ نہیں کرسکتے۔

1۔ عمران خان کی سب سے بڑی نا اہلی یہ ہے کہ جانتے ہوئے بھی کہ 2018 میں فوج انہیں لائ اور انہی سے انہوں نے پنگا لے لیا۔

2۔ جب آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان میں طاقت کا محور فوج ہے تو پھر ان سے پنگا کیوں لیا اور دوبارہ انہی کی طرف دیکھ رہے ہو؟

3۔ یہ کہاں کی عقلمندی ہے کہ سہارا دینے والے کو لات مارو اور پھر انہی سے دوبارہ سہارا کی امید رکھو؟

Its over Imran Khan.
You have been archived